ہماری تاریخ

ہماری تاریخ اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب ایک کمپنی نے آگے بڑھنے اور سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ دوسری کمپنی پیچھے ہٹ گئی
(Pak Stanvac)اسٹینویک کا مشترکہ تجارتی ادارہ پاک ( Esso/Mobil) تھی ۔ یہ 1957 کی بات ہے جب ایسو/موبل
سندھ میں تیل کی تلاش کے منصوبے پر عمل کے دوران مری میں قدرتی گیس کے وسیع ذخائر سے اتفاقاً ہمکنار ہوا ۔ پاک سٹینویک، کی توجہ
کیو نکہ مکمل طور پر تیل کی تلاش پر مرکوز تھی اس لیے اس دریافت نے معاملے کا رخ ایسو کی طرف موڑد دیا ،جس نے مری کے گیس کے ذخائر سے صنعتی طور پر بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ۔ ایسو نے مری کے گیس کے ذخائر سے دس میل دور ڈھرکی کے مقام پر یوریا کا بہت بڑا کارخانہ لگانے کی تجویز پیش کی جس میں یوریا میں تبدیل کیے جانے کے لیے قدرتی گیس کو بطور خام مال استعمال کیا جاتاہے۔

حکومت پاکستان سے اس سلسلے میں 1964 میں مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوئے اور ایک سمجھوتے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت ایسو کو 173,000ٹن گنجائش کا حامل یوریا پلانٹ لگانے کی اجازت دے دی گئی ۔ا یسو ،بلاکسی رکاوٹ کے پیداوار کے آغاز کے لیے جدید ترین ڈیزائن ، تجارتی طور پر کامیاب سہولتیں اور ممتاز تکنیکی ماہرین کا ذخیرہ لے کر آئی ۔ پلانٹ پر کل لاگت 46ملین امریکی ڈالر تھی جو اس وقت تک پاکستان میں سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری تھی۔ پلانٹ نے چند ماہ کی تاخیر سے ابتدائی بجٹ میں دس فیصد سے کچھ کم اضافے کے ساتھ ، 4دسمبر1968کو پیداوار کا آغاز کیا ۔

فروخت میں اضافے کے لیے مارکیٹنگ کی ایک بھر پور تنظیم قائم کی گئی جس نے پاکستان کے کاشتکاروں کو زراعت میں تعلیم دینے کے کئی منصوبوں پر عمل کیا ۔ ملک میں کھاد کا پہلا برانڈ تیار کرنے والے صنعت کار کی حیثیت سے کمپنی نے زراعت کے روایتی طریقوں کو جدید بنانے ، کھیتوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے اور کاشتکاروں اور ان کے اہل خانہ کا معیا زندگی بہتر بنانے میں مجموعی طور پر ہاتھ بٹایا ۔ کاشت کاروں کی تعلیم نے پاکستان میں کیمیائی کھاد کی کھپت میں اضافہ کردیا جس نے کمپنی کے برانڈ یوریا اینگرو کو ‘‘توانائی برائے افزائش’’ کا سرنامیہ بنادیا۔

بن گئی اس لیے کمپنی کا نام بھی تبدیل کرکے (Exxon) ایکسو ن (Esso) میں عالمی سطح پر نام کی تبدیلی کے نتیجے میں ایسو 1978
رکھ دیاگیا۔ (Exxon Chemical Pakistan Limited) ایکسون کیمیکل پاکستان لمیٹڈ

میں ایکسون نے اپنا کھاد کا کاروبار عالمی سطح پر پھیلانے کا فیصلہ کیا ۔ ایکسون پاکستان لمیٹڈ کے ملازمین نے مقامی اوربین الاقوامی 1991
سطح پر مالیاتی اداروں کے تعاون سے ایکسون کی 75فیصد ایکویٹی خریدلی۔ پاکستان کی کارپوریٹ تاریخ میں ملازمین کا ادارے کو خریدنے کا یہ سب سے بڑا کامیاب تجربہ تھا اور آج بھی ہے۔

اینگرو کیمیکل پاکستان لمیٹڈ کے نئے نام سے کمپنی اپنی ہموار مالیاتی کارکردگی ، کھاد کے مرکزی کاروبار میں ترقی اور متنوع کاروبار ی مہم جوئیوں کے سبب زیادہ سے زیادہ طاقت ور ہوتی چلی گئی۔
میں ملازمین کے کمپنی کو خریدنے اورڈھرکی میں کارخانہ کو بڑے پیمانے پر بہتر بنانے کے واقعات ایک ہی وقت رونما ہوئے۔ اینگرو نے 1991
برطانیہ اور امریکہ میں کھاد تیار کرنے والے کارخانے بھی وہاں سے اٹھا کر،یوریا کے حوالے سے دنیا میں اول مقام کی حامل جگہ، ڈھرکی میں لگالیے ۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا ۔ اینگرو کیمکلز پاکستان لمیٹڈنے دیگر شعبوں میں بھی ہاتھ ڈالا جن میں غذا، توانائی ، کیمیائی مادوں کی ذخیرہ اندوزی،
اور پیٹرو کیمکلز شامل ہیں۔ (Industrial Automation) انہیں سنبھالنا اور ان کی تجارت، انڈسٹریل آٹو میشن

تک اینگرو تیزی سے ترقی کررہا تھا اور اس نے اپنے کاروبار کا تنوع سات صنعتوں کی حد تک پھیلادیا تھا ۔2009
کمپنی کے کاروبار میں مسلسل توسیع اور وتنوع نے اینگرو کیمیکلز پاکستان لمیٹڈ کی بڑے پیمانے پر تشکیل نو کا تقاضا کیاجس کے نتیجے میں عدم انضمام کے سبب اینگرو فرٹیلائزر کے نام سے ایک نیا ذیلی ادارہ وجود میں آیا۔

اس سلسلے میں قانونی ضابطوں سے گزرنے اور درکار قانونی منظوریوں کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 9دسمبر2009ء کو عدم انضمام کی منظوری دے دی جو یکم جنوری 2010سے موثر العمل ہوا ۔ نتیجتاً کھاد کا تمام کاروبار اور اثاثہ جات و مالی واجبات بنیادی کمپنی اینگرو کارپوریشن کو جاری کردہ شیئرز کے عوض، اینگرو فرٹیلائزر کے نام منتقل کردیے گئے۔

جدید ترین پلانٹ جس کی اونچائی (En Van 3.0) کمپنی نے یوریا میں توسیع کا سب سے بڑا منصوبہ 2007‘میں شروع کیا ۔ این وین 3.0
125میٹر ہے پاکستان میں سب سے اونچا صنعتی ڈھانچہ شمار ہوتا ہے ۔ اس کی توسیع کے سبب جس پر کل لاگت کا تخمینہ تقریباً ایک اعشاریہ ایک
بلین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے یوریا کی درآمد پر ہونے والے اخراجات میں خاطر خواہ کمی کے علاوہ اینگرو کا شمار ملک میں سب سے زیادہ یوریا بنانے والی کمپنیوں میں ہونے لگا ہے۔

میں گیس کی اضافی مقدار حاصل ہونے پر، کمپنی کے سرمائے کے ڈھانچے سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لیے بیلنس شیٹ کے ڈھانچے 2013
) حاصل کرنے کے لیے سرمائے کی مارکیٹوں میں یورش کی گئی اور Capex) کی تشکیل نو کے ساتھ ساتھ ڈویلپمنٹ کے لیے درکار سرمایہ
ایک دھماکہ خیز کامیابی تھی کیونکہ بک بلڈنگ پروسیس (IPO) مالیاتی کمپنیوں کے دروازے کھٹکھٹائے گئے ۔ اس حوالے سے آئی پی او
کے موقع پر (Public Issue) میں مانگ ،دستیاب حصص سے چارگنا زیادہ تھی جبکہ پبلک اشو (Book Building Process)
مانگ دستیاب حصص سے تین گنا زیادہ تھی۔

WordPress Lightbox Plugin